تحریک عدم اعتماد: قومی اسمبلی اجلاس کیلئے غیر معمولی انتظامات

—فائل فوٹو

قومی اسمبلی کے آج ہونے والے اجلاس میں شرکت کے لیے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری، ان کے والد سابق صدر آصف علی زرداری، مسلم لیگ ن کے صدر، اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف، سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے۔

اس موقع پر ایک صحافی نے آصف علی زرداری سے سوال کیا کہ ملکی سیاست کا اہم موڑ آ گیا ہے، آپ کیا کہتے ہیں؟

سابق صدر نے جواب دیا کہ میں کہتا ہوں کہ ان شاء اللّٰہ بہتر ہو گا۔

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آج کے پارلیمانی اجلاس میں اسٹریٹیجی طے کی جائے گی۔

ایک صحافی نے شہباز شریف سے سوال کیا کہ کیا بیک ڈور معاملات طے ہو رہے ہیں؟

جس پر شہباز شریف نے الٹا ان سے سوال کر دیا کہ کس نے کہا ہے کہ اس طرح معاملات طے ہو رہے ہیں؟

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے اپوزیشن چیمبر میں زاہد حامد اور دیگر پارٹی ارکان سے مشاورت بھی کی۔

’’اجلاس بلانا پڑتا ہے، کب تک آئین سے انحراف کریں گے‘‘

سابق وزیرِ اعظم، ن لیگی رہنما شاہد خاقان عباسی نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس بلانا پڑتا ہے، کب تک آئین سے انحراف کریں گے، جو حکومت آتی ہے وہ اپنی پالیسی بناتی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا شہباز شریف کہہ رہے ہیں کہ چارٹرڈ آف اکنامی بنالیں لیکن یہاں سے صرف گالیاں آتی ہیں، اراکین کتنے ہیں پتہ چل جائے گا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے سلسلے میں ایم این ایز کے لیے ہدایت نامہ جاری کر دیا گیا ہے۔

ہدایت نامے کے مطابق اجلاس میں مہمانوں کے داخلے پر پابندی ہو گی، ایم این ایز، وزراء کے سیکیورٹی گارڈز اور ذاتی عملہ لانے پر بھی پابندی ہو گی۔

ارکانِ پارلیمنٹ مخصوص پارکنگ میں گاڑی کھڑی کرنے کے پابند ہوں گے۔

جاری کیے گئے ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ ایم این ایز کے لیے پارلیمنٹ لاجز سے پارلیمنٹ ہاؤس تک شٹل سروس شروع کی جائے گی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے لیے سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق ریڈ زون میں دفعہ 144 نافذ کی گئے ہے اور اسے مکمل طور پر سیل کیا گیا ہے۔

ریڈ زون میں داخلی اور خارجی ایک ہی راستے مارگلہ روڈ کو کھلا رکھا گیا ہے، جہاں اسلام آباد پولیس، رینجرز اور ایف سی کی نفری تعینات کی گئی ہے۔

کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو ریڈ زون میں داخلے کی اجازت نہیں ہو گی، ریڈ زون جانے والے ملازمین اپنے دفتر کا کارڈ دکھا کر جا سکتے ہیں۔

اسلام آباد ٹریفک پولیس کے مطابق ریڈ زون میں داخلے اور باہر نکلنے کی اجازت صرف مارگلہ روڈ سے ہے۔

ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ سرینا چوک، نادرا چوک، ایکسپریس چوک، ایوب چوک ریڈ زون میں داخلے اور باہر نکلنے کے لیے بند رہیں گے۔

واضح رہے کہ  عمران خان وزیرِ اعظم رہیں گے یا نہیں؟ اس حوالے سے فیصلے کی گھڑی آ گئی۔

قومی اسمبلی کا اجلاس آج دن 11 بجے ہو گا، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اجلاس کی صدارت کریں گے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے 15 نکاتی ایجنڈے میں تحریکِ عدم ا عتماد بھی شامل ہے، تحریک پر اپوزیشن کے 147 ارکان کے دستخط ہیں۔

عدم اعتماد کی قرار داد میں کہا گیا ہے کہ اس ایوان کی رائے ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان ایوان کا اعتماد کھو چکے ہیں، انہیں عہدے سے برخاست کر دیا جائے۔




Source link

About Daily Multan

Check Also

صوبائی اسمبلیاں تحلیل ہوں گی تو بہت اچھا ہوگا، رانا ثناء اللّٰہ

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ عمران خان کے اعلان کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *