دریائے راوی اور ملحقہ سرکاری اراضی پر بڑے پیمانے پر قبضوں اور غیر قانونی تعمیرات کا انکشاف


دریائے راوی اور ملحقہ سرکاری اراضی پر بڑے پیمانے پر قبضوں اور غیر قانونی …

لاہور (عامر بٹ سے) بھارت کی جانب سے دریائے راوی میں ڈیڑھ لاکھ کیوسک سے زائدپانی چھوڑنے کے بعد لاہور میں شاہدرہ اور اس سے ملحقہ آبادیوں کیلئے خطر ے کی گھنٹی بج گئی،دوسری جانب سرکاری محکموں کی ملی بھگت سے دریائے راوی اور اس سے ملحقہ سرکاری اراضی پر بڑے پیمانے پر قبضوں اور غیر قانونی تعمیرات کا انکشاف ہوا ہے،اعلی حکا م کی جانب سے غیر قانونی فروخت اور قبضوں میں ملوث سرکاری اہلکاروں کیخلاف کارروائی کا حکم صرف کاغذوں تک ہی محدود رہا ہے۔تفصیلات کے مطابق بھارت کی جانب سے 2 روز قبل دریائے راوی میں ڈیڑھ لاکھ کیوسک سے زائد پانی چھوڑنے کا اعلان کیا گیا جس کے بعد انتظامیہ حرکت میں آئی اور فوری طور پر ہنگامی اقدامات شروع کر دئیے، صوبائی محکمہ قدرتی آفات کی جانب سے بتایا گیا اس وقت جسڑ کے مقام پر پانی کی سطح 51000 کیوسک تک پہنچ چکی ہے، راوی میں شاہدرہ کے مقام پر پانی کی سطح 17800 کیو سک ہو گئی ہے، شاہدرہ کے مقام پر 40 ہزار کیوسک سے زائد پانی آنے سے نچلے درجے کا سیلاب آ سکتا ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق پانی کی سطح بلند ہونے سے گوجرانوا لہ، نارووال اور سیا لکوٹ کی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے،تاہم سروے کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ دریائے راوی میں سیلاب کا خطرہ بھی ناجائز قابضین کو نہیں روک سکا۔ضلعی انتظامیہ بھی حصہ وصول کرکے لمبی تان کر سو گئی، ناجائز قابضین دھڑلے سے دریائے راوی کی اراضی پر قابض ہیں۔

سروے کے دوران اربوں روپے کی سرکاری اور دریا کی اراضی فروخت کر کے سیکڑوں نئی آبادیاں بنانے کا انکشاف ہوا ہے، ڈپٹی کمشنر لاہور نے اراضی فروخت کرنیوالے افراد اور غفلت برتنے والے ریونیو کے سرکاری اہلکاروں کیخلاف کارروائی کا حکم بھی دیا مگر کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ذرائع نے بتایا دریائے راوی کے ارد گرد 20سال میں سیکڑوں ہاؤسنگ سکیمیں بن گئی ہیں، مقامی پٹوار خانے اور ایم سی ایل کے افسران کی معاو نت اور ملی بھگت کے باعث قبضہ مافیا نے سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کی پشت پناہی پر کچی آبادیاں اور بستیاں بنا کر ہزاروں خاندانوں سے کروڑوں روپے وصول کرکے لاکھوں لوگو ں کی زندگیاں، مال و مویشی داؤ پر لگا دئیے ہیں۔

اس وقت دریائے راوی میں سیلاب کے باعث  جو آبادیاں خطرے سے دوچار ہیں ان میں شاہدرہ ٹاؤن، اسلم پارک، بیگم باغ، مجید پارک، جہانگیر پارک، جہا نگیر کالونی، راوی کلفٹن، حسنین پارک، قاضی پارک، سعید پارک، محبوب پارک، تاکیہ پنڈ، رسول پارک، سراج پارک، گھوڑے شاہ، محلے ککے زئی، اور شاہدرہ پلیاں کے ارد گرد کی بے نام کچی آبادیاں شامل ہیں۔ دوسری جانب روای کے گرد نواح میں زمین خریدنے والے شہریوں کا کہنا تھا جب ہم نے یہ پلاٹ خریدے اور لاکھوں روپے ادا کیے تھے تب ڈپٹی کمشنر لاہور کہاں تھے جب یہ تعمیرات شروع کروائی گئیں اور لوگوں کو قبضے دئیے گیے تب ڈپٹی کمشنر اور انتظامیہ کہاں تھی سب سے پہلے ان لوگوں کیخلاف کارروائی کی جائے جن لو گو ں نے یہاں پر کمرشل اور گھروں کی تعمیر کی اجازات دی تھی، کیا کارروائی صرف ان لوگوں کیلئے رہ گئی ہے جنہوں نے  اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی یہاں پر لگا دی ۔ہم روڈ بلاک کردیں گے،ڈپٹی کمشنر لاہور کے اقدام کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کریں گے۔

مزید :

رپورٹر پاکستان علاقائیپنجابلاہور




Source link

About Daily Multan

Check Also

متحدہ علماء کونسل پاکستان کی تشکیل نو کا اعلان 

متحدہ علماء کونسل پاکستان کی تشکیل نو کا اعلان  لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)متحدہ علماء کونسل …

Leave a Reply

Your email address will not be published.