سندھ حکومت کی طرف سے کرشنگ سیزن کا آغاز ، بزدار حکومت  نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مراد علی شاہ کو “مفت مشورہ” بھی دے دیا 

سندھ حکومت کی طرف سے کرشنگ سیزن کا آغاز ، بزدار حکومت  نے خوشی کا اظہار کرتے …

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعلیٰ پنجاب کے معاون خصوصی برائے اطلاعات اور صوبائی ترجمان حسان خاور نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کی طرف سے گنے کے کرشنگ سیزن کا آغاز خوش آئند ہے، دیر آید درست آید، سندھ نے اب ارادہ کر ہی لیا ہے تو اس راہ میں روڑے نہ اٹکائے،یہ روڑے پاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی) حکومت کےراستےمیں نہیں بلکہ عوام کےراستے میں آرہےہیں، پنجاب میں کرشنگ سیزن کےآغازکاپہلےہی اعلان کیاجاچکاہے، جنوبی پنجاب میں کرشنگ سیزن 15 نومبر سے جبکہ صوبے کے باقی حصوں میں 20 نومبر سے شروع ہو رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حسان خاورنے چینی کی قلت یا عدم دستیابی کے بارے میں افواہوں کی سختی سے تردید کی اور بتایا کہ پنجاب میں گھریلو صارفین کی چینی کی روزانہ کھپت 28 ہزار ٹن ہے،ہمارے پاس اگلے 15 دن کی ضروریات کے لئے اس سے دوگنا مقدار میں چینی کا سٹاک موجود ہے، اس وقت مارکیٹ میں 46 ہزار ٹن چینی کا پرائیویٹ سٹاک موجود ہے، تقریبا ایک لاکھ ٹن کا سٹاک حکومت پنجاب اور پنجاب میں واقع یوٹیلیٹی سٹوروں پر موجود ہے،کچھ سٹاک ڈپٹی کمشنروں کی زیرنگرانی اضلاع کے گوداموں میں موجود ہے، مزید 40 ہزار ٹن بحری جہاز کے ذریعے پاکستان پہنچ رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے ڈیڑھ لاکھ ٹن چینی درآمد کی ہے، حکومت پنجاب نے بھی ڈیڑھ لاکھ ٹن چینی امپورٹ کی ہے جس میں سے 80 ہزار ٹن فروخت کی جا چکی ہے،وفاق اورپنجاب حکومت نے چینی پر پانچ ارب روپے سبسڈی بھی دی ہے،حکومت پنجاب مقررنرخوں پرچینی کی دستیابی یقینی بنانے کے لئے خصوصی مہم چلا رہی ہے،گزشتہ تین دن کے دوران 1933 مقامات کا معائنہ کیا گیا، ذخیرہ اندوزی کی 1738 شکایات کو چیک کیا گیا، 18 ایف آئی آرز درج کروائی گئیں، 63 گودام سربمہر کئے گئے، چینی کے21 ہزار تھیلے قبضے میں لئے گئے اور ملوں کو ساڑھے تین لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا۔

    ترجمان حکومت پنجاب نے کہا کہ شوگر ملوں کا کیس عدالت میں زیر سماعت ہے،عدالت کا حکم امتناعی ہے کہ حکومت شوگر ملوں سے زبردستی سٹاک نہیں اٹھا سکتی، اس لیے ہم عدالت کے احکامات کی روشنی اور قانون کے دائرے میں رہ کر تمام کاروائی کر رہے ہیں،ہماری انفورسمنٹ حکمت عملی کے تین پہلو ہیں،ہم شوگر ملوں سے بات کر رہے ہیں،چند شوگر ملوں نے اس امر پر رضامندی ظاہر کی ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر اپنا سٹاک کنٹرولڈ پرائس ایکس مل 85 روپے کلو کے حساب سے حکومت کو دیں گی،بعض ملوں کے ساتھ ہم مانیٹرڈ سیلز میں جا رہے ہیں یعنی ہم ڈیلروں کو ان شوگر ملوں کے پاس لے کر جا رہے ہیں تاکہ وہ کنٹرول ریٹ پر سٹاک اٹھائیں اور چینی مارکیٹ میں آئے،اس کے علاوہ ذخیرہ اندوزی کے خلاف بھی ہمارا آپریشن جاری ہے۔

حسان خاور نے کہا کہ ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کرنے والے یہ افواہ پھیلا رہے ہیں کہ درآمد شدہ چینی کی مٹھاس کم ہے، یہ بات سراسر غلط ہے،فرق صرف یہ ہے  کہ درآمد کی جانے والی چینی باریک جبکہ مقامی چینی کا دانہ موٹا ہے،دونوں قسم کی چینی کا ذائقہ بالکل ایک جیسا ہے، درآمدی چینی پورے پنجاب میں 90 روپے کلو کے حساب سے دستیاب ہے،شہری درآمد شدہ چینی خریدیں اور بلیک مارکیٹنگ کا راستہ روکیں،درآمد شدہ چینی خریدیں چوربازاری اور ذخیرہ اندوزی کا دروازہ بند ہو جائے گا۔

    ترجمان حکومت پنجاب نے کہا کہ حکومت جب بھی عوام کے مفاد کے تحفظ کے لئے سٹیٹس کو کے حامیوں اور مافیا کھڑی ہوتی ہے تو اسے ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے-حکومت لوگوں کے مسائل حل کر رہی ہے اور چینی کی قیمت کنٹرول کرنے کے لئے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے

مزید :

علاقائیپنجابلاہور




Source link

About Daily Multan

Check Also

، پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ کے آفیسرز کیخلاف  اچانک پولیس متحرک ، گھروں پر  چھاپے ،گرفتاریاں

، پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ کے آفیسرز کیخلاف  اچانک پولیس متحرک ، گھروں پر … لاہور ( …

Leave a Reply

Your email address will not be published.