سندھ میں پانی بحران شدید، زرعی معیشت کو خطرہ ہے، مشیر زراعت منظور وسان

فائل فوٹو

سندھ میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا، مشیر زراعت سندھ منظور وسان کا کہناہے کہ صوبےمیں پانی کی قلت 45 فیصد تک جاپہنچی ہے، حصے کا پورا پانی نہ ملنے سے سندھ کی زرعی معیشت کو خطرہ ہے۔

مشیر زراعت سندھ منظور وسان نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ سندھ میں پانی کی کمی روز بروز بڑھتی جارہی ہے،پانی قلت سے گنے، آم، چاول، مرچ، زیتون اور کھجور کے باغات کو نقصان ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت میں اکتوبر 2018 سے مارچ 2022 تک سندھ کو 189اعشاریہ 29 ملین ایکڑ فٹ زرعی پانی کم ملا ہے۔

مشیر زراعت نے کہا کہ عمران حکومت میں سندھ کو حصے کا پانی کم ملنے سے گزشتہ سال گندم، چاول اور کپاس کی فصلیں کم ہوئیں۔

منظور وسان کا کہنا تھا کہ ساڑھے تین سالوں میں سندھ کا حصہ 161 اعشاریہ 1 ملین ایکڑ فٹ بنتا ہے، جبکہ گزشتہ ساڑھے 3 سالوں میں سندھ کو خریف میں پانی 16 فیصد اور ربیع میں 22 فیصد کم ملا ہے۔

منظور وسان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ کو اپنے حصےکا پانی پورا دیا جائے، کٹوتی کسی صورت قبول نہیں ہے۔

دوسری جانب راجن پور کی داجل کینال میں تین ماہ سے پانی کی بندش کے خلاف کسانوں نے احتجاجی دھرنا بھی دیا۔

ترجمان ارسا نے کہا ہے کہ بارشوں کے باعث دریاؤں میں پانی کی آمد میں بہتری آئی ہے،سندھ کو پانی کی فراہمی 32ہزار کیوسک سے بڑھا کر 60ہزار کیوسک کر دی ہے، پانی 5 ،6 دن میں سکھر پہنچےگا۔

سکھر، گڈو اور کوٹری بیراجوں پر 51 فیصد پانی کی قلت کا سامنا ہے، پانی کی چوری اور قلت کے خلاف آباد گاروں نے بدین میں احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔




Source link

About Daily Multan

Check Also

شیخ رشید کا حراست کے دوران بھی دبنگ انداز برقرار

فوٹو، اسکرین گریب عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کو گرفتار ہوئے کئی گھنٹے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *