سندھ ہاوس پر حملہ ہم سندھ صوبے پر حملہ سمجھتے ہیں، شرجیل میمن

فوٹو: فائل

پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ ہاؤس اسلام آباد پر حملے کو ہم سندھ صوبے پر حملہ سمجھتے ہیں۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں رکن سندھ اسمبلی نے کہا کہ ریڈ زون میں وزیراعظم عمران خان کی ٹائیگر فورس نے دہشت گردی کا مظاہرہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹائیگر فورس نے سرکاری املاک پر دھاوا بولا، ہم چاہتے تو پی ٹی آئی کارکنوں کی دھلائی ہوسکتی تھی۔

پی پی رہنما نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے دو ایم این ایز بھی اس دہشت گرد حملے میں موجود تھے، عمران خان تصادم چاہتے ہیں جبکہ ہماری لیڈر شپ نے ہمیں تصادم کا پیغام نہیں دیا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ فہیم خان اور عطا اللہ کو تمام کیمروں نے دیکھا ہے، جب یہ لوگ اس طرح کی حرکت کررہے تھے، تو اسلام آباد پولیس خاموش بیٹھی تھی۔

شرجیل میمن نے یہ بھی کہا کہ وفاقی وزرا کہہ رہے تھے کہ سندھ پولیس کس قانون کے تحت سندھ ہاؤس پر تعینات ہے، آج اگر سندھ کی پولیس نہیں ہوتی تو سندھ ہاؤس میں لوگوں کی جان کو خطرہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان عددی نمبروں سے شکست کھا چکا ہے، جس انداز میں انہیں ہار نظر آئی ہے اب وہ تصادم چاہتے ہیں۔

پی پی رہنما نے کہا کہ عمران خان چاہتا ہے کہ ہم بھی اس طرح کی حرکتیں کریں اور تصادم ہو، ہم چاہتے توحملہ آوروں کی دھلائی ہوسکتی تھی۔ جو ایم این ایز اس میں ملوث ہیں ان پر مقدمہ بنایا جائے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ اسلام آباد کے ریڈ زون میں بدترین دہشت گردی کا مظاہرہ کیا گیا، اسلام آباد پولیس 3، 4 گھنٹے سے تماشا دیکھ رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ سرکاری املاک پر اس طرح دھاوا بولا جائے، یہ اسلام آباد پولیس اور وزیر داخلہ کی ناکامی ہے، شیخ رشید کو استعفیٰ دینا چاہیے۔

پی پی رہنما نے کہا کہ سندھ ہاؤس میں پیپلز پارٹی کے ایم این اےاپنی فیملیز کے ساتھ موجود ہیں، دہشت گردی کے حملے کیے تو آپ کے ایم اےاین بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ عمران خان کو شکست نظر آرہی ہے، ہمارے صبر کو پیمانہ لبریز نہ ہونے دیا جائے، ریڈ زون میں دہشت گردی میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کیا جائے۔




Source link

About Daily Multan

Check Also

اسلام آباد کا نجی مال سیل کردیا گیا

اسلام آباد کے نجی مال کو سیل کر کے دروازے پر نوٹس لگا دیا گیا۔ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *