“عمران خان ضیاءالحق ٹو بننے کی کوشش میں ہیں “قمر زمان کائرہ نے وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے ن لیگ کو بھی آئینہ دکھا دیا

“عمران خان ضیاءالحق ٹو بننے کی کوشش میں ہیں “قمر زمان کائرہ نے وزیراعظم پر …

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات ہیں اور ہم حیران ہیں ،آج کا حکمران اپنے آپ کو دیکھے تو سہی ،جب ہر طرف سے ناکام ہوا تو مدینے کی ریاست کا نعرہ لگانا لگا ،مدینے کی ریاست پر ہم، ہمارے بچے اور ہماری نسلیں قربان ،تمہیں کیا پتا کہ مدینے کی ریاست کیا ہے؟اس کی بنیاد کیا ہے؟آج پاکستان میں پہلے ہی مذہبی انتہا پسندی کی آگ لگی ہے،عمران خان اسے اپنے رنگ میں استعمال کرنا شروع ہوگئے ہیں اور یہ ضیاءالحق ٹو بننے کی کوشش ہے،نوازشریف “ووٹ کو عزت دو “کا نعرہ لگانے سے پہلے اپنے بیانئے پر اپنی پارٹی کو قائل اور بیک ڈور رابطے ختم کرے،جو لوگ کہتے ہیں پیپلز پارٹی پنجاب میں کمزور ہو گئی ہے انہیں پانچ دسمبر کو منہ توڑ جواب دینگے۔

تفصیلات کے مطابق  این اے 133 سے پیپلز پارٹی کے امیدوار چودھری اسلم گل کی انتخابی مہم کے سلسلہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ,اگر آپ انتہا پسندی کے ساتھ مذاکرات کرکے انکو سپیس دیتے آئینگے تو اس سے زیادہ انتہا پسندی سامنے آئیگی,مدینے کی ریاست صرف پاکستان ہی نہیں دنیا بھر کے انسانوں کے لئے ایک مثالی ریاست اورمثالی نظام  تھا ،لاہور کے لوگوں کو واضح طور پر بتانا ہو گا کہ یہ جعلسازیاں نہیں چلیں گی،آج ہر بندے کے گھر میں بھوک ہے،بچے بلکتے ہیں تو والدین کیا کریں ؟مزدور اگر احتجاج کرتا ہے تو خان صاحب فرماتے ہیں گھبرانا نہیں ،ان حکمرانوں کو سمجھ ہی نہیں آتی ،ہندوستان میں پچھلے 25 دنوں میں پٹرول کی قیمتیں دس روپے کم ہوئی ہیں انہوں نے بڑھا دی ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ن لیگ کے لیڈر کہتے ہیں کہ یہ حکومت پانچ سال پورے کرے ،ہم چاہتے ہیں کہ اس حکومت کے خلاف عدم اعتماد لائیں تو ن لیگ والے کہتے ہیں کہ ہم چاہتے ہیں کہ 2023 ء کا الیکشن فری اینڈ فیئر ہوجائے ،ہم کہتے ہیں جب پنجاب کی حکومت ختم ہوگئی تو مرکزی حکومت بھی ختم ہو جائیگی، ن لیگ والے کہتے ہیں ہمیں یہ حکومت سوٹ کرتی ہے ہم اسے کیوں گرائیں؟نواز شریف “ووٹ کو عزت دو” کا نعرہ لے کر چلے ہیں ،ہم اس کے ساتھ ہیں لیکن ہم تو 1967ء میں ووٹ اور ووٹر کو عزت دو کا نعرہ لے کر چلے تھے ،آپ تو ہمیشہ اس نعرے کے خلاف رہے،اگر ووٹ کو عزت دو کے ساتھ آپ مخلص ہیں اور ملک میں آئین کی حکمرانی چاہتے ہیں تو پھر یہ جو “بیک ڈور رابطے” ہیں اس کو ختم کروائیں اور اپنی جماعت کے اندر تو ایک پیج ہو جائیں ،آپ کے اندر جو دو بیانئے چل رہیں اسے تو ختم کروائیں ،اپنی جماعت کو تو اپنے نظریئے سے قائل کریں۔

سابق وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ کیا ہے ؟سیاست کے اندر مداخلت ختم کی جائے ،اُن قوتوں اور ان اداروں کے ساتھ گفتگو بند کی جائے جو ہیں تو ریاست کے ادارے  لیکن وہ سیاست میں مداخلت کرتے ہیں ،اگر آپ کے کچھ ساتھی آپ کے گھر کے اندر سے کہہ رہے ہیں کہ ہمیں بات چیت کے دروازے بند نہیں کرنے چاہئیں ،تو بتایا جائے کہ کس کے ساتھ دروازے بند نہیں کرنے چاہئے؟کیا آپ نے حکومت کے ساتھ بات چیت کرنی ہے؟اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کرنی ہے یا ان کے ساتھ بات چیت کرنی ہے جن کے خلاف ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لے کر چل رہے ہیں؟پہلے عوام میں اپنے آپ کو کلیئر تو کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہم یہی ایجنڈا لے کر آئے ہیں کہ نہ یہ “ووٹ کو عزت دو “کے ساتھ مخلص ہیں اور نا ہی عمران خان پاکستان کے ساتھ مخلص ہے،کل وہ نئے پاکستان کے نام پر عوام کو دھوکہ دے رہے تھے ،آج یہ مدینے کی ریاست کے نام پر عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں ،کل ضیاءالحق نے اس ملک میں اسلامی نظام کا نعرہ لگا کے ہم پر جبر مسلط کیا تھا ،آج عمران خان آپ ہم پر جبر مسلط کرنے لگے ہیں ،ہم سارے اللہ اور اس کے رسولﷺ کے ماننے والے اور ان سے محبت کرنے والے ہیں لیکن پاکستان کے عوام آپ کے ان دھوکوں میں نہیں آئیں گے۔

 قمر زمان کائرہ نے کہا کہ جوں جوں الیکشن کی فضا آگے بڑھ رہی ہے ماحول گرم ہو رہا ہے،ہماری الیکشن کمپین میں بار بار رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے ،الیکشن رولز کی دھجیاں اُڑائی جاتی ہیں، ہم قانون کے دائرے میں رہ کر اپنی کمپین کررہے ہیں لیکن مقامی انتطامیہ کی جانب سے ہمارے بینرز اتارے جا رہے ہیں ،سابقہ حکمران جماعت اورموجودہ حکمران جماعت کی کمپیئن بڑی واضح نظر آ رہی ہے،اس حوالے سے دو مرتبہ الیکشن کمیشن کو تحریری طور پر آگاہ کیا ہے ، الیکشن کمیشن نے ڈسکہ اور دیگر جگہوں پر ہونے والی دھاندلی اور سارے عمل کوبے نقاب کیا ہے ،ہمیں توقع ہے کہ وہ حکمران جماعت اور دیگر کسی گروپ کے وہ تمام ہتھکنڈے جو فری اینڈ فیئر الیکشن کے رستے میں رکاوٹ بنتے ہیں ان کو روکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جب پیپلز پارٹی کی حکومت آتی ہے تو وفاق کو مظبوط ، انتہا پسندی کو کنٹرول اور غریبوں کی حیثیت اور طاقت میں اضافہ کرتی ہے، پیپلز پارٹی کا اصول یہ ہے کہ ان اسمبلیوں میں حکومت تبدیل کی جائےاور سب جماعتوں کی اتفاق رائے سے نئے انتخابی قوانین بنائے جائیں،مزاحمت غیر قانونی اور غیر آئینی ہتھکنڈوں کے خلاف ہے، مزاحمت اس ملک کی سیاست کے اندر مداخلت کے خلاف ہے،عمران خان کے سیکھتے سیکھتے یہ قوم پتہ نہیں کس حالت میں چلی جائیگی؟ اس وقت مسائل کا بڑا سادہ حل یہ ہے کہ عمران خان سے جان چھوٹ جائے،ہم اپنے اختلافات کے ساتھ بھی اکٹھے چل سکتے ہیں، یہی جمہوریت کا حسن ہے۔

مزید :

علاقائیپنجابلاہور




Source link

About Daily Multan

Check Also

شہباز گِل کی کار کو حادثہ گرفتار کیے گئے شخص کے بارے کئی دنوں بعد خبر آگئی

شہباز گِل کی کار کو حادثہ ، گرفتار کیے گئے شخص کے بارے کئی دنوں …

Leave a Reply

Your email address will not be published.