عورت کا عدت کے دوران نکاح قرآن و حدیث کے مطابق باطل ہوگا علماء  کرام 

“عورت کا عدت کے دوران نکاح قرآن و حدیث کے مطابق باطل ہوگا” علماء  کرام 

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) علما ء کرام  کا کہنا ہے کہ عدت کے دوران نکاح جائز نہیں ہے، اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ قرآن و حدیث کی مخالفت کر رہا ہے۔

 مولانا حافظ عبدالغفار روپڑی، شیخ عبداللہ ناصر رحمانی، شیخ عبدالستار حماد، حافظ عبدالوہاب روپڑی، میاں محمد جمیل، حافظ زبیر احمد ظہیر نے کہا ہے کہ عورت کو عدت گزارنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں دیا ہے۔ سورہ بقرہ آیت نمبر 228میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ جن عورتوں کو طلاق ہو جائے وہ تین حیض عدت گزاریں اور ان کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے رحموں میں جو کچھ ہے اس کو چھپائیں۔ اگر حمل ہے تو اس کو ظاہر کریں اور نکاح کے لئے تین حیض انتظار کریں اس دوران ان کے خاوند چاہیں تو ان کو لے جاسکتے ہیں عدت گزارنا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور عورت اس کی پابند ہے۔

علما کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے  سورہ بقرہ کی آیت نمبر 236 میں  واضح حکم ہے کہ دوران عدت عورت نکاح نہیں کر سکتی۔ ابو داؤد حدیث 2030 اور ابن ماجہ حدیث 2746 میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے دور میں ایک آدمی کا نکاح ہوا تو وہ عورت حمل سے تھی یہ معاملہ عدالت نبوی ﷺ میں پہنچا تو آپ نے اس نکاح کو باطل قراردکر علیحدگی اختیار کرنے کا حکم دیا۔

علما کا کہنا تھا کہ  اگر کوئی لاعلمی کی بنا پرنکاح کرلے تو اس پر حد لاگو نہیں ہو گی اگر جانتے ہوئے کوئی نکاح کرتا ہے تو اس پر زنا کی حد لاگو ہو گی۔ انہوں نے لاہور ہائی کورٹ  سے مطالبہ کیا کہ عدت کے حوالے سے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔

مزید :

علاقائیپنجابلاہور




Source link

About Daily Multan

Check Also

وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالٰہی کا صوبے بھر میں انسداد ڈینگی کیلئے مؤثر مہم چلانے کا حکم 

وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالٰہی کا صوبے بھر میں انسداد ڈینگی کیلئے مؤثر … لاہور …

Leave a Reply

Your email address will not be published.