قصور پولیس نے ایک سال میں 113 مغوی بچوں کو بازیاب کرایا آر پی او شیخوپورہ


قصور پولیس نے ایک سال میں 113 مغوی بچوں کو بازیاب کرایا، آر پی او شیخوپورہ

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )  قصور پولیس بچوں کے اغوا، جنسی تشدد اور قتل کے واقعات کی روک تھام کیلئے متحرک ہے۔ تھانہ کنگن پور کے علاقے  میں چھ سالہ معصوم بچی اقصیٰ کے اغوا، زیادتی اور قتل میں ملوث ملزم کو چند گھنٹوں میں گرفتار کرلیا۔ اس کے علاوہ تھانہ کھڈیاں کے علاقے میں کم سن بچے کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے درندہ صفت مجرم اشتہاری کو منڈی احمد آباد سے گرفتار کرلیا گیا، جون 2021سے اب تک 113مغوی بچوں کو بحفاظت والدین کے حوالے کیا گیاہے ۔

ریجنل پولیس آفیسر (آرپی او) شیخوپورہ ریجن مرزا فاران بیگ  نے ڈی پی اوقصور محمد صہیب اشرف کے ہمراہ اپنے آفس میں پریس کانفرنس کے دوران  بتایا کہ ضلع قصور میں چائلڈ ابیوز کے واقعات کی روک تھام اور ملزمان کی فوری گرفتاری کیساتھ ساتھ ملوث ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوانے کیلئے ٹھوس اقدامات کیے گئے ہیں۔

آر پی اوشیخوپورہ نے بتایا کہ 8مئی کو  چار بجے سہ پہر کنگن پور کے علاقے میں چھ سالہ معصوم بچی اقصیٰ کی گمشدگی کو پولیس کو اطلاع ملی،وقوعہ کی اطلاع پا کر ڈی ایس پی چونیاں کی سربراہی میں پولیس کی سپیشل ٹیمیں تشکیل دی گئیں، پولیس ٹیموں نے ایس او پیز کے مطابق اردگرد کے علاقوں اور فصلوں میں سرچ آپریشن کیے اور مساجد میں اعلانات کیساتھ ساتھ بچی کی تصویرسوشل میڈیا پر وائرل کی، دوران سرچ آپریشن پولیس ٹیموں نے شک کی بنیاد پر ملزم علی رضا کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی۔ ملزم نے دوران تفتیش اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے اقصیٰ کو زیادتی کے بعد قتل کرکے اس کی نعش مکئی کی فصل میں پھینک دی ہے، پولیس ٹیموں نے  نعش فصل  سے برآمد کی۔ جائے وقوعہ سے فرانزک ٹیموں اور کرائم سین یونٹ نے شواہد اکٹھے کیے، ملزم کو قرار واقعی سزادلوانے کیلئے ڈی این اے سمیت دیگر جدید خطوط پر تفتیش کے عمل کو بروئے کار لایا جارہا ہے۔

آر پی اوشیخوپورہ نے مزید بتایا کہ جولائی 2019 میں کھڈیاں کے علاقہ ٹبہ نینول سے 10سالہ عبدالرحمان کی کھیتوں سے نعش ملی جس کو بھی زیادتی کے بعد بے دردی سے قتل کردیا گیا تھا، پولیس نے اس کیس میں بھی جدید ترین ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا، جائے وقوعہ کی جیوفینسنگ کی گئی اور فرانزک ٹیموں نے شواہد اکٹھے کیے، 500 مشکوک افراد کا ڈیٹا مرتب کیا گیا،50 مشکوک افراد کا ڈی این اے کروایا گیا،اور درندہ صفت ملزم سلیم میو کو ٹریس کیا، تین سال سے مفرور مجرم اشتہاری سلیم میو کی گرفتاری کیلئے پولیس نے لاہور، اوکاڑہ، کراچی اور حیدرآباد میں ریڈز کیے اور بالآخر تین سال کی مسلسل محنت کے بعد ملزم کو اوکاڑہ کے علاقے منڈی احمد آبادسے گرفتار کرلیاگیا۔

آر پی او شیخوپورہ نے مزید بتایا کہ ضلع قصور میں جون 2021 سے اب تک بچوں کے اغوا کے کل 117کیسز رپورٹ ہوئے جس میں سے دو بچوں کی ڈیڈ باڈیز پولیس کو ملیں، دونوں کیسز میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرلیا گیاہے، 113 بچوں کو بحفاظت تلاش کرکے والدین کے حوالے کیا گیا ہے۔قصور پولیس نے چائلڈ ابیوز کے واقعات کی روک تھام کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے ہیں اس سلسلہ میں پولیس ٹیموں نے سکول و کالجز میں جاکر بچوں کو لیکچر دئیے ہیں اور انہیں  گڈ اور بیڈ ٹچ کے بارے میں بتایا ہے۔

آر پی اوشیخوپورہ نے کہا کہ بچوں کی حفاظت پولیس اور والدین کی مشترکہ ذمہ داری ہے، والدین بچوں کیساتھ دوستانہ ماحول رکھیں، انہیں اچھے اور برے ٹچ کے متعلق بتائیں،  بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور ان کے دوستوں کیساتھ میل جول پر نظر رکھیں۔انہوں  نے ڈی پی او قصور محمد صہیب اشرف اور ان کی ٹیم کی اعلیٰ کارکردگی کو سراہتے ہوئے شاباش دی۔

مزید :

جرم و انصافعلاقائیپنجابشیخوپورہقصورلاہور




Source link

About Daily Multan

Check Also

  33سستے اتوار بازار بند سٹال ہولڈرز سراپا احتجاج شہریوں کی دہائی

  33سستے اتوار بازار بند، سٹال ہولڈرز سراپا احتجاج ،شہریوں کی دہائی     لاہور(عامر بٹ سے) …

Leave a Reply

Your email address will not be published.