قومی اسمبلی نے مالیاتی ضمنی بل 2021 منظور کرلیا


قومی اسمبلی نے مالیاتی ضمنی بل 2021 کثرت رائے سے منظور کرلیا، بل میں اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد کردی گئیں۔ وزیرخزانہ نے ایوان میں مالیاتی ضمنی بل 2021 منظوری کی تحریک پیش کی۔

قومی اسمبلی میں ضمنی بجٹ کی منظوری کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔

قومی اسمبلی میں اسٹیٹ بینک ترمیمی بل بھی منظوری کے لیے پیش کیا، وزیرخزانہ شوکت ترین نے اسٹیٹ بینک ترمیمی بل ایوان میں پیش کیا۔ اپوزیشن کی جانب سے اسٹیٹ بینک ترمیمی بل کی شدید مخالفت کی گئی۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے اسٹیٹ بینک ترمیمی بل پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کیا ہاتھ کاٹ دیے ہیں؟، ہمارے پاس اسٹیٹ بینک کو چلانے کی پوری اتھارٹی ہوگی۔

شوکت ترین نے کہا کہ سابق حکومتوں نے ساڑھے سات ٹریلین روپے کے نوٹ چھاپے، اسٹیٹ بینک کے بورڈ آف گورنرز کی تعیناتی حکومت کرے گی۔

اس موقع پر مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما احسن اقبال نے اسپیکر قومی اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سے درخواست ہے بل پر ہر رکن کو بات کرنے کا موقع دیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ آپ سے التجا کرتا ہوں کل اس بل پر پورا دن بحث کریں، ہم اسٹیٹ بینک کی خود مختاری پر سودا نہیں ہونے دیں گے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے کہا کہ اسٹیٹ بینک ترمیمی بل ملکی مفاد میں ہےتو رات کی تاریکی میں کیوں منظور کیا جارہا ہے، ہم اپنی معیشت کا پورا نظام تبدیل کرنے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک ابھی سال میں چار مرتبہ رپورٹ دیتا ہے، بل کی منظوری کے بعد اسٹیٹ بینک سے پالیسی پر سوال نہیں کیا جاسکے گا۔

نوید قمر نے کہا کہ اس بل کی منظوری سے ہم قومی سلامتی پر سمجھوتہ کرنے جارہے ہیں۔ ہم ہنگامی صورتحال میں اسٹیٹ بینک سے قرض نہیں لے سکیں گے۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت اس اجلاس میں وزیراعظم ایوان میں پہنچے تو حکومتی اراکین ڈیسک بجا کر ان کا خیرمقدم کیا۔ 

وزیراعظم عمران خان کی آمد پر اپوزیشن اراکین کی جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی۔

ضمنی مالیاتی بل کی شق پر اپوزیشن کی ترامیم مسترد کردی گئیں۔

اپوزیشن کی ترامیم کے حق میں 150 ووٹ جبکہ اپوزیشن کی ترامیم کی مخالفت میں 168 ووٹ آئے، یوں قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی ترامیم کثرت رائے سے مسترد ہوگئیں۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے ضمنی مالیاتی بل 2021 ایوان میں منظوری کے لیے پیش کرتے ہوئے کہا کہ فنانس بل پر اپوزيشن کا واوایلا بےبنیاد ہے۔

اپوزیشن رہنما محسن داوڑ، شاہد خاقان عباسی اور نوید قمر کی ترامیم مسترد کردی گئیں۔ 

بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے ایوان میں منی بجٹ پر ترامیم پیش کی گئیں۔

چیئرمین پی پی پی کی ترامیم میں کہا گیا کہ نان، تندور، چپاتی، بند، رس اور ریسٹورنٹس پر ٹیکس واپس لیا جائے۔

ان میں یہ بھی کہا گیا کہ ملٹی میڈیا اور لیپ ٹاپ کی درامد پر ڈیوٹی ختم کی جائے۔

وزیر خزانہ کی شوکت ترین کی یقین دہانی پر ایم کیو ایم پاکستان نے اپنی ترامیم واپس لے لیں۔

اس موقع پر حکومت کے پاس ایوان میں منی بجٹ کی منظوری کے لیے 18 ارکان کی اکثریت موجود تھی۔

قومی اسمبلی ایوان اس وقت 342 ارکان پر مشتمل ہے، حکومت کے پاس 182 ارکان جبکہ اپوزیشن کے پاس 160 ارکان ہیں، اپوزیشن کے 10 اور حکومت کے 14 ارکان ایوان سے غیر حاضر رہے۔




Source link

About Daily Multan

Check Also

ملک میں کورونا سے مزید 8 افراد کا انتقال

فائل فوٹو ملک بھر میں کورونا سے 8 افراد انتقال کر گئے، مزید 358 افراد …

Leave a Reply

Your email address will not be published.