لاہور ہائیکورٹ نےٹرائل کورٹ سے سزا یافتہ مجرم کو رہا کرنے کا حکم دے دیا

لاہور ہائیکورٹ نےٹرائل کورٹ سے سزا یافتہ مجرم کو رہا کرنے کا حکم دے دیا

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن)ہائیکورٹ کے جسٹس عبدالعزیز اور جسٹس امجد رفیق پر مشتمل دو رکنی بنچ نے مجرم داوڑ خان کی اپیل پر سماعت کی، مجرم کی طرف سےوکیل  میاں داود ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور مئوقف اختیار کیا کہ سی ٹی ڈی نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کیلئے فنڈ ریزنگ کرنے کے الزام میں داوڑ خان کو 2 اپریل کو گرفتار کیا تھا مگر سی ٹی ڈی اور پراسکیوشن کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تعلق کا ایک بھی ثبوت پیش نہیں کر سکے مگر اس کے باوجود انسداد دہشت عدالت نے ثبوتوں اور قانون سے ہٹ کر داوڑ خان کو صرف مفروضے کی بنیاد پر ایک سال قید کی سزا سنا دی۔

میاں داود ایڈووکیٹ نے نشاندہی کی کہ ٹرائل کورٹ نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تعلق کی حد تک الزام سے ملزم کو بری کیا مگر کالعدم تحریک طالبان کیلئے فنڈ ریزنگ کے غیرمصدقہ الزام میں ایک سال سزا دیدی جو غیرقانونی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سی ٹی ڈی نے ملزم سے فنڈ ریزنگ کی بابت رسید بک برآمد کی جبکہ سی ٹی ڈی نے کالعدم تحریک طالبان کیلئے فنڈ دینے والے ایک بھی شخص کو شامل تفتیش نہیں کیا بلکہ سی ٹی ڈی نے ٹرائل کے دوران جے آئی ٹی کی رپورٹ بھی پیش نہیں کی، صرف رسید بک کی غیرمصدقہ برآمدگی کی بنیاد کسی بے گناہ کو سزا دینا ناانصافی ہے، رسید بک پر لکھی ہوئی رقم کی تفصیلات برآمد کئے کرنسی نوٹ سے بھی مطابقت نہیں رکھتی۔ سرکاری وکیل نے مئوقف اختیار کیا کہ مجرم کے دستخطوں کے نمونے رسید پر دستخطوں سے مطابقت رکھتے ہیں، اس کے جواب میں مجرم کے وکیل نے نشاندہی کی کہ صرف دستخطوں کے مطابقت رکھنے پر کسی ملزم کو سزا نہیں دی جا سکتی، رسید بک کی تمام تحریر کا فرانزک نہ کروانا بھی سی ٹی ڈی کی غفلت اور بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے، سی ٹی ڈی نے اپنی کارکردگی دکھانے کیلئے بے گناہ شخص کو پکڑ کر دہشتگردی کے مقدمے میں پھنسایا، لاہور ہائیکورٹ نے تفصیلی بحث سننے کے بعد مجرم داوڑ خان کو بری کرنے کا حکم دیدیا۔

مزید :

علاقائیپنجابلاہور




Source link

About Daily Multan

Check Also

سینئر تجزیہ کار ایاز امیر پر نامعلوم افراد کا حملہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا

سینئر تجزیہ کار ایاز امیر پر نامعلوم افراد کا حملہ، تشدد کا نشانہ بنایا گیا …

Leave a Reply

Your email address will not be published.